Old








Comments

Popular Posts

ناول کا نام: تنہائی کے سو سال مصنف۔ گیبریل گارشیا مارکیز مترجم۔۔ ڈاکٹر نعیم کلاسرا گیبریل گارشیا مارکیز کا نوبل انعام یافتہ ناول جو زندگی کے بہت سے موضوعات کا مجموعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پوری تہذیب کی نمو سے فنا تک کا سفر ہے۔ تجسس، تخلیق، سائنس اور تعمیر سے لیکر تنہائی، کرب، شکست، نسل کشی، قدرتی آفات اور وباؤں کے انسانی تہذیب پہ ان مٹ اثرات، انفرادی زندگی میں رومانویت، شخصی آزادی، تعلقات قائم ہونا اور مٹ جانا محبت اور بددلی غرض یہ کہ اس ناول میں شاید ہی کوئی ایسا موضوع ہو جسے نظرانداز کیا گیا ہو۔ یہ ناول آپ کو سکھائے گا کہ لٹیرے تلواریں لیکر آپ کی بستی پہ آن وارد ہوں یا کسی کمپنی کے نام سے گھسیں ان کا مقصد لوٹ مار، منافع اور مقامی لوگوں کے استحصال کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ تجسس اگر آپ کو تنہائی کا شکار بنا دے یعنی تخلیق سے خالی ہو جائے تو آپ سماج سے کٹ جاتے ہیں اور سماج سے کٹنے کا مطلب موت ہے۔ ادھوری جنگیں، ادھورے انقلاب صرف انہی کو نقصان نہیں پہنچاتے جو جنگیں یا انقلابی تحریکیں شروع کرتے ہیں بلکہ اگلی بہت سی نسلوں کی تباہی کا سبب بنتے ہیں ایک ایسی ہی جنگ اس ناول میں بھی لڑی جاتی ہے جسے عین فیصلہ کن موڑ پہ مصلحت اور سمجھوتے کے نام پہ ترک کر دیا جاتا ہے نتیجتآ اگلی تین نسلیں انہی کے ہاتھوں گاجر مولی کی طرح کٹتی رہتی ہیں جن سے سمجھوتہ کیا گیا تھا۔ مزاحمت کے بغیر کوئی انسانی بستی، تہذیب یا نسل اپنی بقآ برقرار نہیں رکھ سکتی انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی زندگی اور مجموعی سماج تک انسان کو باقی رہنے کیلئے مزاحمت کا دامن مضبوطی سے پکڑے رکھنا چاہییے "بوئندے" خاندان اور "موکوندو" کی بستی پہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہاں کے باسی مزاحمت کے بجائے تنہائی اور مایوسی کی طرف نکل جاتے ہیں رفتہ رفتہ پوری بستی اپنی تہذیب سمیت مٹ جاتی ہے